3D Printing Technology ka Tameerat mein Inqalabi Istemal

September 30, 20210

 

بلڈنگز یا گھروں کی تعمیر میں روائتی انداز اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عام ہے ۔

روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے  بڑے پیمانے پر عمارتوں کی تعمیر تو آپ نے دیکھی ہوگی ، مگر اب 3 ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی اس ضمن میں نیا باب ہے

3 ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی نہ صرف تعمیراتی لاگت کو بہت کم کر دیتا ہے بلکہ دورانیے کو بھی کم کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے گھر صرف 12 گھنٹوں میں چھاپ سکتا ہے ، یا تعمیر کیا جا سکتا ہے ، جس کی قیمت 1 لاکھ روپے سے  بھی کم آتی ہے ۔

امریکہ اور یورپ میں اس ٹیکنالوجی کے کامیاب استعمال کے بعد

مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں بھی اس حوالے سے مثبت رجحانات دیکھنے میں آرہے ہیں ۔ دبئی کی حکومت چاہتی ہے کہ 2030 تک 25 فیصد عمارتیں اسی ٹیکنالوجی سے پرنٹ کی جائیں۔

سعودی عرب اگلی دہائی میں ڈیڑھ لاکھ گھر بنانے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور بھارت کی ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت ملک کی مکانات کی کمی کو دور کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ کا استعمال کرنے کی خوائش مند ہے۔

پاکستان بھی دیگر بہت سے مسائل کی طرح گھروں کی کمی کا شکار ملک ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی ضرورت ہے ۔

 

، شہری علاقوں میں خاص طور پر مزدور طبقات ،نچلے اور  درمیانی آمدنی والے طبقات کے لیے سستے رہائشی یونٹوں کی بہت بڑی مانگ ہے۔

 

کچی آبادیاں تمام شہروں میں پھیل گئی ہیں اور یہ آبادیاں کم آمدنی والے افراد کی رہائش کو پورا کرتی ہیں  جو شہروں اور قصبوں میں سستی پناہ تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ گھروں کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے جبکہ سپلائی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔

 

ہاؤسنگ کی بہت زیادہ مانگ کے باوجود ، پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کی مجموعی شراکت بہت کم رہی ہے – جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ متعدد خطرات ہاؤسنگ فنانس سیکٹر کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ پراپرٹی مارکیٹوں میں شفافیت کی کمی کو ایک اہم رکاوٹ کہا جاتا ہے۔ مارکیٹ سستی قیمتوں پر ہاؤسنگ اسٹاک کی فراہمی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔

حکومت کم آمدنی والے افراد کے لیے کم لاگت والے مکانات کی تعمیر 3 ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکتی ہے  ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 1980 کی دہائی کے اوائل میں متعارف کروائی گئی ۔ یہ پہلے ہی آرتھوپیڈک امپلانٹس سے لے کر ہوائی جہاز کے اجزاء تک کی چیزیں بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس کی مدد سے کم آمدنی والے گھروں کی تعمیر کر کے حکومت ایک کروڑ گھروں کی تمعیر کا وعدہ باآسانی پورا کر سکتی ہے ۔

مزید جاننا چاہتے ہیں؟

وزٹ کریں اسمارٹ وے کنسلٹنٹس کی خبریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

SMARTWAYHeadquarters
Organically grow the holistic world view of disruptive innovation via empowerment.
OUR LOCATIONSWhere to find us
https://smartwayconsultants.com/wp-content/uploads/2019/04/img-footer-map.png
GET IN TOUCHSmartway Social links
Taking seamless key performance indicators offline to maximise the long tail.
SMARTWAYHeadquarters
Organically grow the holistic world view of disruptive innovation via empowerment.
OUR LOCATIONSWhere to find us
https://smartwayconsultants.com/wp-content/uploads/2019/04/img-footer-map.png
GET IN TOUCHSmartway Social links
Taking seamless key performance indicators offline to maximise the long tail.

Copyright by Smartway Consultants. All rights reserved.

Copyright by Smartway Consultants. All rights reserved.